توانائی بحران: خواجہ آصف کا بجلی چوری پر سخت اظہارِ افسوس اور کڑی تنقید، کاروباری اوقات پر بڑا سوال

کاروباری اوقات اور بجلی چوری: خواجہ آصف کا بجلی چوری پر سخت اظہارِ افسوس

پاکستان میں جاری توانائی کے شدید بحران اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے مستقل مسئلے پر سیاسی اور عوامی سطح پر بحث ہمیشہ گرم رہتی ہے۔ اس حساس موضوع پر وفاقی دارالحکومت سے وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا ایک انتہائی سخت اور چونکا دینے والا بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے ملکی تاجر برادری کے کاروباری رویوں اور مارکیٹوں کے اوقات کار پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔

وزیرِ دفاع نے ملک کی معاشی اور انتظامی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان شاید دنیا کا وہ واحد ملک بن چکا ہے جہاں بازار اور تجارتی مراکز دوپہر کے بعد کھلتے ہیں اور نصف رات گزرنے کے بعد بند ہوتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ طرزِ عمل ملکی معیشت اور توانائی کے وسائل پر ایک بہت بڑا بوجھ ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سخت ردِعمل

وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری کردہ اپنے ایک تفصیلی بیان میں اس بات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا کہ اس اہم مسئلے کو ماضی میں بھی کئی بار ہر سطح پر اٹھایا گیا، لیکن اس کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا۔ انہوں نے حکومتوں کی بے بسی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ تاجروں کی سیاسی اور معاشی طاقت اتنی زیادہ ہے کہ اس کے سامنے تمام حکومتیں ہمیشہ بے بس اور لاچار نظر آتی ہیں، جس کی وجہ سے اصلاحات نافذ نہیں ہو پاتیں۔

خواجہ آصف نے اپنے بیان میں دوہرے معیار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف تو ہمارا ملک برسوں سے بجلی کی شدید کمی اور بحران کا رونا روتا ہے، لیکن دوسری طرف بجلی چوری جیسے سنگین جرم کو اپنا حق سمجھ کر بلا خوف و خطر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس ذہنیت کو بدلے بغیر ملک کو بحرانوں سے نکالنا ممکن نہیں ہے۔

قدرتی روشنی سے دوری اور عالمی مثالیں

وزیرِ دفاع نے سورج کی قدرتی روشنی کا فائدہ نہ اٹھانے کی قومی عادت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بارہ مہینے بھرپور اور وافر مقدار میں سورج کی روشنی سے نوازا ہے۔ اگر ہم صبح سویرے اپنے کاروبار کا آغاز کریں تو بجلی کے استعمال میں اربوں روپے کی بچت کی جا سکتی ہے۔ لیکن ہماری تاجر برادری اس بات پر بضد دکھائی دیتی ہے کہ وہ اپنا کاروبار دن کے اجالے کے بجائے رات کے اندھیرے میں، مصنوعی بجلی کی روشنی جلا کر ہی کرے گی۔

انہوں نے ترقی یافتہ اور دیگر ممالک کی مثال دیتے ہوئے واضح کیا کہ پوری دنیا میں ایک منظم قانون کے تحت مغرب کے فوراً بعد تمام بازار بند کر دیے جاتے ہیں اور ہفتے میں ایک مکمل چھٹی کا قانون سختی سے نافذ ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان میں ایسی بڑی مارکیٹیں اور تجارتی مراکز موجود ہیں جہاں مبینہ طور پر چوری کی بجلی کا استعمال کر کے کاروبار چمکا رہے ہیں۔

Related Posts