بجٹ 2026: عوام نئی ملازمتوں معاشی ترقی اور خوشحالی کو بھول جائیں

نیا وفاقی بجٹ 2026-2027 اور معاشی بحران: ترقی اور روزگار کے بغیر آئی ایم ایف کا ایک اور کڑا امتحان

پاکستان کی وفاقی حکومت آئندہ ہفتے مالی سال دو ہزار چھبیس ستائیس کا نیا بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے، لیکن اس وقت ملکی معیشت جس نہج پر کھڑی ہے، وہاں سے معاشی ترقی، نئی ملازمتوں اور عوامی خوشحالی کے امکانات انتہائی مدہم نظر آ رہے ہیں۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کی سخت شرائط کے تحت تیار کیے جانے والے اس بجٹ میں حکومت کے سامنے دوہرا چیلنج ہے۔ ایک طرف حکومت ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے اور دوبارہ کسی بڑے مالی بحران سے بچانے کی تگ و دو میں مصروف ہے، تو دوسری طرف زمینی حقائق یہ ہیں کہ عام عوام اور کاروباری طبقہ پہلے ہی ریکارڈ مہنگائی، بے روزگاری اور شدید کاروباری مشکلات کی چکی میں پس رہا ہے۔

قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ اور ترقیاتی بجٹ کا جمود

ملکی معیشت کا سب سے بڑا اور تشویشناک پہلو قرضوں کی ادائیگی کا وہ بوجھ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ایک بے قابو طوفان بن چکا ہے۔ اگر اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو تقریباً دس سال پہلے پاکستان پر کل قرضہ انیس کھرب روپے تھا، جو اب ہولناک حد تک بڑھ کر تقریباً اسی کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ حکومت اپنی کل کمائی کا تقریباً ساٹھ فیصد حصہ صرف ماضی کے قرضوں اور ان پر واجب الادا سود کی ادائیگی میں جھونک دیتی ہے۔

اس بھاری بوجھ کا سیدھا اثر ملک کے ترقیاتی منصوبوں پر پڑ رہا ہے۔ جب بیس فیصد سے بھی کم رقم عوام پر خرچ کرنے کے لیے بچے گی، تو سڑکوں، تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی عوامی منصوبوں کے لیے فنڈز کی شدید قلت پیدا ہونا ناگزیر ہے۔ خود وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے باعث وفاقی ترقیاتی پروگرام گزشتہ آٹھ برسوں سے تقریباً ایک کھرب روپے کے گرد منجمد ہو کر رہ گیا ہے، جبکہ اس کے برعکس اسی عرصے کے دوران صوبائی ترقیاتی بجٹ میں تین گنا تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

سرمایہ کاری میں کمی اور کاروباری برادری کی مایوسی

گزشتہ چند سالوں کے دوران معیشت کو سنبھالنے اور استحکام کے دعوے تو بہت کیے گئے، لیکن اس عمل میں ملکی ترقی کی رفتار انتہائی سست پڑ گئی۔ اس سست روی کا سب سے بڑا نقصان ملک کے نوجوانوں کو ہوا جن کے لیے روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو کر رہ گئے ہیں۔ حالیہ معاشی سروے اور کاروباری ماحول کی رپورٹ کے مطابق، غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں نیا سرمایہ لگانے سے شدید گریز کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے رواں مالی سال بیرونی سرمایہ کاری میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ ملک کے اندر موجود زیادہ تر مقامی کاروباری اداروں نے بھی غیریقینی صورتحال کے باعث اپنی نئی سرمایہ کاری کو فی الحال روک دیا ہے، جس سے صنعتی پہیہ جام ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

کمزور ٹیکس نظام اور تنخواہ دار طبقے پر بوجھ

پاکستان کا ٹیکس نظام شروع ہی سے ساختی خامیوں کا شکار رہا ہے۔ اگرچہ حالیہ دنوں میں ٹیکس وصولیوں کے حجم میں کچھ اضافہ ضرور دیکھا گیا ہے، لیکن ٹیکس دینے والوں کا دائرہ کار اب بھی انتہائی محدود ہے۔ ملک کی معیشت کا ایک بہت بڑا حصہ اب بھی ٹیکس نیٹ سے مکمل طور پر باہر ہے، جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ حکومت اپنی آمدن بڑھانے کے لیے سارا بوجھ پہلے سے رجسٹرڈ کاروباروں اور تنخواہ دار طبقے پر ڈال دیتی ہے۔ اس ناانصافی پر مبنی نظام نے سفید پوش طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

آنے والا بجٹ موجودہ حکومت کے لیے کسی بڑے امتحان سے کم نہیں ہوگا۔ عوام اور کاروباری حلقے اب یہ امید لگا کر بیٹھے ہیں کہ حکومت محض نئے ٹیکسوں کی بھرمار کرنے اور آئی ایم ایف کو خوش کرنے کے بجائے کوئی ایسا راستہ نکالے جو ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دے، نئے روزگار پیدا کرے اور معیشت کو حقیقی پٹری پر واپس لائے۔

Related Posts

بخاری گروپ کے قائد کی امریکہ روانگی، کارکنان اور چاہنے والوں کے لیے اہم پیغام
  • June 4, 2026

Continue reading