جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے اسرائیلی فوج پر حملے: گائیڈڈ میزائلوں سے بلڈوزر تباہ، لڑائی میں تیزی

جنوبی لبنان میں میدانِ جنگ گرم: حزب اللہ کے اسرائیلی فوجی اہداف پر متعدد حملے، گائیڈڈ میزائلوں کا استعمال

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید عسکری کشیدگی کے مابین لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر جنگی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ لبنان کی معروف مزاحمتی تنظیم حزب اللہ (Hezbollah) نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں دراندازی کرنے والی اسرائیلی فوج پر یکے بعد دیگرے کئی کاری ضربیں لگائی ہیں۔ حزب اللہ کے عسکری ونگ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین بیانات کے مطابق، لبنانی سرحد کے اندر پیش قدمی کرنے والے اسرائیلی فوجیوں، ان کی جنگی گاڑیوں اور بھاری انجینئرنگ آلات کو جدید ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق، حزب اللہ کے یہ حملے ظاہر کرتے ہیں کہ زمینی سطح پر اسرائیلی فوج کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور یہ لڑائی کسی بھی وقت بڑے علاقائی تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

یحمر الشقیف میں ہونے والے حملوں کی تفصیلی رپورٹ

حزب اللہ کی جانب سے سماجی رابطے کی ایپ ‘ٹیلی گرام’ (Telegram) پر جاری کردہ باقاعدہ پریس ریلیز میں ان حملوں کی لائحہ عمل اور اہداف کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔

حملوں کی ترتیب:

  • پہلا حملہ (توپ خانے کا استعمال): حزب اللہ کے جنگجوؤں نے جنوبی لبنان کے سٹرٹیجک علاقے ‘یحمر الشقیف’ کے جنوب مشرقی مضافات میں پوزیشن لینے والے ایک اسرائیلی فوجی بلڈوزر کو دیکھا، جسے فوری طور پر توپ خانے (Artillery) کے گولوں سے نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے کے نتیجے میں بلڈوزر کو شدید نقصان پہنچا۔

  • دوسرا حملہ (گائیڈڈ میزائل کا وار): پہلے حملے کے کچھ ہی دیر بعد، اسی علاقے میں اسرائیلی فوج کی مدد کے لیے آنے والے ایک اور فوجی بلڈوزر پر حزب اللہ کی اینٹی ٹینک یونٹ نے گھات لگا کر گائیڈڈ میزائل (Guided Missile) داغ دیا۔ یہ میزائل اپنے ہدف پر ٹھیک جا لگا، جس سے بلڈوزر مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور اس میں سوار اہلکاروں کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

حزب اللہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں لبنانی سرزمین کے دفاع، خودمختاری کے تحفظ اور معصوم شہریوں پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی ہیں۔

خطے کی مجموعی صورتحال پر سفارتی اثرات

جنوبی لبنان میں جاری یہ خونریز جھڑپیں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب عالمی سطح پر جنگ بندی کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران اور اسرائیل سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔ تاہم، زمین پر جاری یہ حملے ظاہر کرتے ہیں کہ سفارتی کوششوں اور تلخ زمینی حقائق کے مابین ابھی تک ایک بڑا فاصلہ موجود ہے۔

پاکستانی قیادت بھی خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جس کا اندازہ وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے ملاقات سے لگایا جا سکتا ہے، جہاں امتِ مسلمہ کے اتحاد اور امن کی کوششوں پر زور دیا گیا۔

سیکیورٹی ماہرین کا تجزیہ: گائیڈڈ میزائلوں کی اہمیت

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، حزب اللہ کی جانب سے گائیڈڈ میزائلوں کا مسلسل استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ تنظیم کے پاس اب بھی جدید ترین اینٹی ٹینک اور اینٹی آرمر ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ اسرائیلی فوج کے بلڈوزرز عام طور پر اراضی کو صاف کرنے، بنکرز بنانے اور سڑکوں پر موجود بارودی مواد کو ہٹانے کے لیے فرنٹ لائن پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان بلڈوزرز کو نشانہ بنا کر حزب اللہ دراصل اسرائیلی انفنٹری (پیدل فوج) کی پیش قدمی کی رفتار کو سست کرنا چاہتی ہے۔

نتیجہ

جنوبی لبنان کے محاذ پر حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی بلڈوزرز اور فوجی اہداف پر کیے جانے والے یہ حالیہ حملے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ سرحد پر سیز فائر (جنگ بندی) کے امکانات تاحال معدوم ہیں۔ عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ کی خاموشی کے باعث خطے میں تناؤ روز بروز بڑھ رہا ہے۔ اگر ان حملوں کو فوری طور پر نہ روکا گیا، تو ہلاکتوں کی تعداد میں ہولناک اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت اور امن پر پڑیں گے۔

Related Posts