وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے عیدالاضحیٰ کے بعد توانائی بچت اقدامات کے تحت کاروباری اوقات کا نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ اسلام آباد (یکم جون 2026)
ایران کے سفارتی و عسکری تنازعات کے باعث اس وقت پوری دنیا شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے، جس کا سب سے بڑا اثر عالمی سطح پر پیدا ہونے والے توانائی کے بحران کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اس سنگین صورتحال سے نمٹنے اور ملکی وسائل کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ملک بھر میں توانائی کی بچت کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان اقدامات کے تحت اب کاروباری اور تجارتی مراکز کے لیے نئے اوقات کار مقرر کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ عید الاضحیٰ کے مذہبی اور قومی تہوار کے موقع پر عوام اور تاجر برادری کی سہولت کے لیے ان اوقات کار میں عارضی طور پر نرمی کی گئی تھی اور تجارتی مراکز کو دیر تک کھلے رہنے کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم اب عید کی تعطیلات گزرنے کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی انتظامیہ نے توانائی بچت مہم کو دوبارہ سختی سے نافذ کرتے ہوئے نئے اوقات کار کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
شاپنگ مالز اور مارکیٹوں کے لیے نئے احکامات
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اس نئے حکم نامے کا اطلاق یکم جون (پیر) سے فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔ نئے قانون کے تحت وفاقی دارالحکومت کے تمام بازار، مارکیٹیں اور بڑے شاپنگ مالز اب لازمی طور پر رات ۸ بجے مکمل بند کر دیے جائیں گے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے بجلی کی کھپت میں نمایاں کمی واقع ہوگی، جس کا براہِ راست فائدہ ملکی معیشت کو پہنچے گا۔
تاہم، عوامی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کھانے پینے کے شعبے سے وابستہ مراکز جیسے کہ ریسٹورنٹس، ہوٹل، تندور، کریانہ اور جنرل اسٹورز، سبزی و پھل کی دکانیں اور بیکریاں رات ۱۰ بجے تک کھلی رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، شادی ہال، مارکیز اور نجی مقامات پر منعقد ہونے والی تمام سماجی و خاندانی تقریبات کو بھی رات ۱۰ بجے تک ہر صورت ختم کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔
مخصوص شعبوں اور خدمات کو پابندی سے استثنیٰ
عام شہریوں کی آسانی اور کاروباری تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ نے چند مخصوص خدمات کو وقت کی اس پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ ریسٹورنٹس سے کھانا گھر لے جانے (ٹیک اوے) اور گھروں پر فراہمی (ہوم ڈیلیوری) کی خدمات پر وقت کی کوئی حد لاگو نہیں ہوگی اور یہ رات گئے تک کام جاری رکھ سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ، صحت کے شعبے سے وابستہ تمام مراکز جن میں فارمیسیاں، اسپتال، طبی لیبارٹریاں اور میڈیکل اسٹورز شامل ہیں، اس پابندی سے آزاد ہوں گے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں شہریوں کو ادویات اور علاج کی سہولت مل سکے۔ پٹرول پمپس، سی این جی اسٹیشنز، دودھ اور دہی کی دکانیں بھی اپنے معمول کے مطابق کھلی رہیں گی۔ جدید معیشت کا حصہ سمجھنے جانے والے شعبے جیسے کہ معلوماتتی ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کمپنیاں، کال سینٹرز، ورزشی مراکز (جمز) اور کھیلوں کی دیگر سہولیات بھی اس قانون سے مستثنیٰ رکھی گئی ہیں۔
کاروباری اوقات اور بجلی چوری: وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا تاجر برادری پر سخت وار
پاکستان میں جاری توانائی کے شدید بحران اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے مستقل مسئلے پر سیاسی اور عوامی سطح پر بحث ہمیشہ گرم رہتی ہے۔ اس حساس موضوع پر وفاقی دارالحکومت سے وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا ایک انتہائی سخت اور چونکا دینے والا بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے ملکی تاجر برادری کے کاروباری رویوں اور مارکیٹوں کے اوقات کار پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
وزیرِ دفاع نے ملک کی معاشی اور انتظامی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان شاید دنیا کا وہ واحد ملک بن چکا ہے جہاں بازار اور تجارتی مراکز دوپہر کے بعد کھلتے ہیں اور نصف رات گزرنے کے بعد بند ہوتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ طرزِ عمل ملکی معیشت آگے پڑھیے