کراچی پورٹ ٹرسٹ کا تاریخی اقدام: کے پی ٹی کی 140 ایکڑ زمین پر جدید ‘میری ٹائم بزنس ڈسٹرکٹ’ کے قیام کیلیے ایم او یو پر دستخط
پاکستان کی بحری معیشت (Blue Economy) اور شہری ترقی کی تاریخ میں ایک بڑا سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) کی 140 ایکڑ قیمتی ساحلی اراضی (Waterfront Land) پر ایک عالمی معیار کا میری ٹائم بزنس ڈسٹرکٹ (Maritime Business District) قائم کرنے کے لیے کثیر القومی مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔
یہ منصوبہ نہ صرف کراچی کے ساحلی حسن کو تبدیل کرے گا بلکہ پاکستان کو علاقائی بحری تجارت اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا ایک بہت بڑا مرکز بنا دے گا۔
معاہدے کے اہم فریقین اور پسِ منظر
وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کے مطابق، یہ تاریخی معاہدہ سعودی پاکستان جوائنٹ بزنس کونسل (JBC) کے اعلیٰ سطحی وفد کے دورۂ پاکستان کے موقع پر طے پایا۔ اس اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں درج ذیل اہم ادارے شامل ہیں:
-
کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT)
-
سعودی بزنس کونسل – نجد گیٹ وے ہولڈنگ کمپنی (NAJD Gateway Holding Company)
-
عارف حبیب ڈولمین ریئٹ مینجمنٹ لمیٹڈ (AHDRML)
-
پاکستان کارپوریٹ کنسورشیم
منصوبہ کہاں بنے گا اور اس کی خصوصیات کیا ہیں؟
یہ مجوزہ میری ٹائم بزنس ڈسٹرکٹ کراچی کے مرکز میں واقع ایم ٹی خان روڈ پر کے پی ٹی کی 140 ایکڑ اراضی پر تعمیر کیا جائے گا۔
اگر ریگولیٹری اور قانونی منظوریوں کا عمل کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے، تو یہ خطے (Region) کے سب سے بڑے واٹر فرنٹ کمرشل اور تجارتی منصوبوں میں سے ایک بن جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت جدید ترین تجارتی انفراسٹرکچر، کارپوریٹ ہب، اور بحری لاجسٹکس سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔
معیشت اور کراچی کیلیے اس منصوبے کے فوائد
وفاقی وزیر بحری امور نے اس معاہدے کو پاکستان کے لیے ایک “انقلابی موقع” قرار دیتے ہوئے اس کے درج ذیل بڑے فوائد کا ذکر کیا:
بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری: یہ زون ملکی اور بین الاقوامی (خصوصاً سعودی عرب) سرمایہ کاروں کے لیے کشش کا باعث بنے گا۔
روزگار کے مواقع: تعمیراتی مرحلے سے لے کر بزنس ہب کے فعال ہونے تک، ہزاروں مقامی نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔
کراچی کی شہری ترقی: ایم ٹی خان روڈ اور ساحلی پٹی کے ارد گرد کا اربن انفراسٹرکچر جدید ترین بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالا جائے گا۔
علاقائی تجارتی مرکز: پاکستان کو وسطی ایشیائی ممالک اور خلیج کے مابین بحری تجارت کا کلیدی گیٹ وے بننے میں مدد ملے گی۔
وفاقی وزیر کا بیان: “یہ اسٹریٹجک اشتراک کے پی ٹی کے واٹر فرنٹ اثاثوں کی مکمل استعداد کو بروئے کار لانے اور پاکستان کو خطے میں میری ٹائم تجارت کا مرکز بنانے کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گا۔”
قانونی تقاضے اور مستقبل کا لائحہ عمل
وزارتِ بحری امور کے مطابق، منصوبے پر باقاعدہ تعمیراتی کام شروع کرنے سے قبل پاکستانی قوانین کے تحت تمام قانونی، ماحولیاتی اور ریگولیٹری تقاضے سختی سے پورے کیے جائیں گے۔ سعودی وفد نے پاکستان کے پورٹ انفراسٹرکچر اور دیگر متعلقہ منصوبوں میں بھی گہری دلچسپی ظاہر کی ہے، جس سے مستقبل میں مزید پاک-سعودی سرمایہ کاری کی راہیں ہموار ہوں گی۔
پاکستان کی معیشت اور بزنس سیکٹر سے جڑی دیگر اہم خبروں اور اپڈیٹس کے لیے ہماری کیٹیگری پاکستان بزنس نیوز وزٹ کریں۔
اس منصوبے اور کراچی پورٹ ٹرسٹ کی دیگر فعال پالیسیوں کی آفیشل معلومات کے لیے آپ Karachi Port Trust (KPT) کی سرکاری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔