پاک فضائیہ کی سرحدی پٹی پر بڑی کارروائی: فتنہ الخوارج کے 26 دہشت گرد ہلاک، اہم کمانڈرز کے ٹھکانے اور اسلحہ ڈپو تباہ
دہشت گردی کے خلاف ایک اور بڑی کامیابی
پاکستان میں امن و امان کے قیام اور دہشت گرد عناصر کے مکمل خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کا آپریشنل عزم مسلسل برقرار ہے۔ حالیہ دنوں میں پاک فضائیہ (PAF) نے پاک-افغان سرحدی علاقوں میں انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ایک انتہائی منظم اور کامیاب فضائی کارروائی کی ہے۔ اس ٹارگٹڈ آپریشن کے نتیجے میں ریاست مخالف اور کالعدم تنظیم “فتنہ الخوارج” کے 26 خطرناک دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ سرحد پار موجود ان کے متعدد اہم ترین ٹھکانے، تربیتی مراکز اور اسلحے کے بڑے ذخائر مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بنا دیے گئے ہیں۔ یہ کارروائی ملک میں حالیہ دنوں میں ہونے والے بڑے دہشت گردانہ حملوں کے جواب میں ایک کاری ضرب ثابت ہوئی ہے۔
آپریشن کی تفصیلات اور نشانہ بننے والے مقامات
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیانات کے مطابق، یہ آپریشن محض ایک روایتی کارروائی نہیں تھا، بلکہ یہ طویل عرصے سے جمع کی جانے والی انٹیلی جنس معلومات (Intelligence-based operation) کا نتیجہ تھا۔ پاک فضائیہ کے طیاروں نے پاک-افغان سرحدی پٹی پر خوارج کے ٹھکانوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔
اس آپریشن کے دوران درج ذیل اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں:
-
26 دہشت گردوں کا خاتمہ: کارروائی میں فتنہ الخوارج کے 26 فعال اور خطرناک ارکان موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
-
4 اہم ترین ٹھکانوں کی تباہی: سرحدی پٹی پر موجود خوارج کے 4 بڑے اور سٹریٹجک لحاظ سے اہم ترین ٹھکانوں کو نیست و نابود کیا گیا۔
-
اسلحہ ڈپو کا خاتمہ: دہشت گردوں کے زیر استعمال بارود اور جدید ترین ہتھیاروں کے بڑے ڈپو ملبے کا ڈھیر بنا دیے گئے، جس سے ان کی مستقبل میں کارروائیاں کرنے کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
حالیہ حملوں کے ماسٹر مائنڈز اور کمانڈرز کا خاتمہ
اس فضائی آپریشن کی سب سے بڑی کامیابی فتنہ الخوارج کے ہائی پروفائل کمانڈرز اور حالیہ حملوں کے ماسٹر مائنڈز کو ان کے انجام تک پہنچانا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، یہ کارروائی براہِ راست ان نیٹ ورکس کے خلاف کی گئی جو پاکستان کے اندر معصوم شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوث تھے۔
نشانہ بننے والے اہم کمانڈرز:
-
علیم خان خوشالی: فتنہ الخوارج کا ایک انتہائی مطلوب اور خطرناک کمانڈر، جو سرحدی علاقوں سے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو آپریٹ کر رہا تھا۔ اس کارروائی میں اس کا تربیتی مرکز اور ٹھکانہ مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
-
اختر محمد جانی خیل: ایک اور کلیدی خوارج کمانڈر، جو بنوں اور اس کے گردونواح میں ہونے والی پرتشدد کارروائیوں میں براہِ راست ملوث تھا۔ اس کے نیٹ ورک کو بھی اس آپریشن میں جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا ہے۔
وزارتِ اطلاعات کے مطابق، یہ دونوں کمانڈرز اور ان کے ساتھی موسیٰ درہ، شمالی وزیرستان اور بنوں میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے اصل ماسٹر مائنڈز اور منصوبہ ساز تھے۔ ان کا خاتمہ خطے میں امن کی بحالی کے لیے ایک سنگ میل ہے۔
غیر ملکی فنڈنگ اور بھارتی سرپرستی کا انکشاف
پاکستان ہمیشہ سے عالمی برادری کے سامنے یہ موقف رکھتا آیا ہے کہ ملک میں بدامنی پھیلانے والے ان عناصر کو سرحد پار سے فنڈنگ اور بیرونی ممالک کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔ اس کارروائی کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے اس عزم کو دوبارہ دہرایا اور سنسنی خیز انکشافات کیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہلاک ہونے والے ان خوارج کو براہِ راست بھارتی سرپرستی حاصل تھی اور یہ نیٹ ورک پاکستان کے اندرونی حالات کو خراب کرنے کے لیے غیر ملکی فنڈنگ کا بے دریغ استعمال کر رہا تھا۔ بیرونی طاقتیں ان دہشت گردوں کو بطور مہرہ استعمال کر کے پاکستان کی معاشی ترقی اور سی پیک (CPEC) جیسے بڑے منصوبوں کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں، تاہم پاک فوج اور فضائیہ نے ان کے عزائم کو ایک بار پھر خاک میں ملا دیا ہے۔
“وژن عزمِ استحکام” اور حکومتی عزم
پاک فضائیہ کا یہ آپریشن پاکستان کے قومی بیانیے اور سیکیورٹی پالیسی “وژن عزمِ استحکام” کے عین مطابق ہے۔ حکومتِ پاکستان اور عسکری قیادت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ملکی دفاع اور شہریوں کا تحفظ ریاست کی اولین اور ناگزیر ترجیح ہے۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق:
“پاک فوج، پاک فضائیہ اور دیگر تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے اس غیر ملکی فنڈڈ دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں جاری رہیں گی، خواہ ان کے تانے بانے کہیں سے بھی ملتے ہوں۔”
آپریشن کے علاقائی اور سٹریٹجک اثرات
پاک-افغان سرحدی خطے میں کی جانے والی اس فضائی کارروائی کے دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔ سیکیورٹی ماہرین کا ماننا ہے کہ:
-
دہشت گردوں کی سپلائی لائن منقطع: خوارج کے 4 بڑے مراکز اور اسلحہ ڈپو کی تباہی سے پاکستان کے قبائلی اضلاع اور خیبر پختونخوا کے بندوبستی علاقوں میں دہشت گردی کی لہر میں واضح کمی آئے گی۔
-
سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کو پیغام: یہ آپریشن اس بات کا واضح پیغام ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اگر سرحد پار سے دہشت گردی کے لیے زمین استعمال کی گئی تو پاکستان اس کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
نتیجہ (Conclusion)
پاک فضائیہ کا یہ حالیہ اور کامیاب ترین سٹرائیک فتنہ الخوارج کے خلاف جنگ میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔ علیم خان خوشالی اور اختر محمد جانی خیل جیسے کمانڈرز کی ہلاکت اور 26 دہشت گردوں کے خاتمے نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کے دفاعی ادارے ملک دشمن عناصر کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ غیر ملکی فنڈنگ اور بھارتی گٹھ جوڑ کے باوجود، پاکستانی قوم اور اس کی مسلح افواج “وژن عزمِ استحکام” کے تحت ملک کی مٹی سے دہشت گردی کے ناسور کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے متحد اور پرعزم ہیں۔
پاکستان بھر میں سیکیورٹی فورسز کی انسدادِ دہشت گردی کی دیگر کارروائیوں کی تفصیلات جاننے کے لیے ہمارے اس پیج پر وزٹ کریں: پاکستان ڈیفنس اپڈیٹس اور سیکیورٹی آپریشنز.
پاک فضائیہ کے اس آپریشن اور وفاقی وزیر اطلاعات کے آفیشل ٹویٹ کے حوالے سے مزید پڑھنے کے لیے اے آر آئی نیوز کی اصل رپورٹ دیکھیں: پاک فضائیہ کی سرحد پار کارروائی – اے آر وائی نیوز.