فلپائن زلزلہ 2026: جزیرے مینڈاناؤ میں 7.8 شدت کی تباہی، سونامی الرٹ اور جانی و مالی نقصان کا جائزہ
فلپائن ایک بار پھر قدرتی آفت کا شکار ہو گیا ہے۔ 8 جون 2026 کی صبح، فلپائن کے جنوبی جزیرے مینڈاناؤ (Mindanao) اور صوبہ سارنگانی (Sarangani) کے ساحلی علاقوں میں ملکی تاریخ کا ایک انتہائی طاقتور اور ہولناک زلزلہ آیا ہے۔ اس شدید زلزلے نے جہاں بڑے پیمانے پر عمارتوں کو زمین بوس کر دیا، وہیں ساحلی علاقوں میں سونامی کے خطرے کے باعث لاکھوں افراد کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا۔
محکمہ موسمیات اور عالمی اداروں کے مطابق یہ زلزلہ گزشتہ چند دہائیوں میں فلپائن میں آنے والے شدید ترین زلزلوں میں سے ایک ہے، جس کی بازگشت پڑوسی ممالک انڈونیشیا اور جاپان تک محسوس کی گئی ہے۔ اس زلزلے اور اس کے بعد کی صورتحال کی بین الاقوامی رپورٹس آپ الجزیرہ نیوز پر دیکھ سکتے ہیں۔
زلزلے کا وقت، شدت اور مرکز (Epicenter)
فلپائن کے مقامی وقت کے مطابق یہ زلزلہ صبح 7:37 بجے اس وقت آیا جب اسکولوں کے نئے تعلیمی سال کا پہلا دن تھا اور لاکھوں بچے اسکولوں کا رخ کر رہے تھے۔
-
زلزلے کی شدت: یو ایس جیولوجیکل سروے (USGS) اور فلپائن کے ادارے (PHIVOLCS) نے زلزلے کی شدت 7.8 مانیچیوڈ ریکارڈ کی ہے۔
-
زلزلے کا مرکز: زلزلے کا مرکز سارنگانی صوبے کے علاقے ‘ماسم’ (Maasim) سے تقریباً 32 کلومیٹر دور سمندر کے اندر 33 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔
-
وجہ: ماہرین کے مطابق یہ زلزلہ زمین کے نیچے موجود ‘کوٹاباٹو ٹرینچ’ (Cotabato Trench) میں ٹیکٹونک پلیٹوں کی ہلچل اور تھرسٹ فالٹنگ کی وجہ سے آیا ہے۔
زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ وہ تقریباً 30 سیکنڈ تک برقرار رہے، جس کے باعث پورے جنوبی فلپائن میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
جانی و مالی نقصان کی تفصیلات
مختلف بین الاقوامی اور مقامی اداروں بشمول یو این نیوز (UN News) کی رپورٹس کے مطابق، زلزلے کی وجہ سے جانی اور مالی نقصان کے ابتدائی اعداد و شمار درج ذیل ہیں:
| نقصانات کی تفصیل | اعداد و شمار |
| جانی نقصان (اموات) | 37 سے زائد |
| زخمی افراد کی تعداد | 200 سے زائد |
| لاپتہ افراد | 12 سے زائد |
| مجموعی مالیاتی نقصان | 1 ارب فلپائنی پیسو (تقریباً 20.3 ملین ڈالر) |
لینڈ سلائیڈنگ اور عمارتوں کا گرنا:
سب سے زیادہ جانی نقصان صوبہ سارنگانی اور جنرل سانتوس (General Santos) شہر میں ہوا ہے۔ مینڈاناؤ کے پہاڑی علاقوں میں شدید زلزلے کے باعث لینڈ سلائیڈنگ (مٹی کے تودے گرنے) کی وجہ سے کئی دیہات ملبے تلے دب گئے۔ جنرل سانتوس شہر میں کئی کثیر المنزلہ کاروباری عمارتیں، شاپنگ مالز اور اسکول زمین بوس ہو گئے، جہاں متعدد طلبہ کے پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں۔
سارنگانی میں سونامی کی لہریں اور ہائی الرٹ
زلزلہ چونکہ سمندر کے اندر آیا تھا، اس لیے فوری طور پر فلپائن، انڈونیشیا، ملائیشیا اور جاپان کے ساحلی علاقوں کے لیے سونامی وارننگ جاری کر دی گئی۔
فلپائن کے ساحلی قصبوں ‘کیامبا’ اور ‘ماسم’ میں تقریباً 1 سے 1.5 میٹر (تقریباً 5 فٹ) اونچی سونامی کی لہریں ریکارڈ کی گئیں، جس کی وجہ سے سمندری پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہو گیا۔ انتظامیہ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ساحلی پٹی پر رہنے والے ہزاروں خاندانوں کو اونچے اور محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا، جس کی وجہ سے سونامی سے بڑا جانی نقصان ٹل گیا۔ چند گھنٹوں بعد سونامی کا خطرہ ٹلنے پر الرٹ واپس لے لیا گیا۔
آفٹر شاکس (Aftershocks) کا سلسلہ اور انتظامیہ کا ردِعمل
فلپائنی ادارے ‘فیوولکس’ (PHIVOLCS) کے مطابق، بڑے زلزلے کے بعد اب تک 900 سے زائد آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جن میں سب سے شدید آفٹر شاک کی شدت 6.5 تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ اگلے چند ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے، اس لیے شہریوں کو خستہ حال عمارتوں میں داخل ہونے سے منع کیا گیا ہے۔
حکومت اور عالمی اداروں کے اقدامات:
فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے تمام ریسکیو اداروں کو مینڈاناؤ پہنچنے کے احکامات جاری کیے۔ جنرل سانتوس انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو عارضی طور پر بند کر کے پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ 6,200 سے زائد اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل کر کے عمارتوں کا اسٹرکچرل آڈٹ شروع کر دیا گیا ہے۔ یونیسیف (UNICEF) اور دیگر عالمی فلاحی ادارے بھی متاثرہ بچوں اور خاندانوں کو امداد فراہم کرنے کے لیے متحرک ہو چکے ہیں۔
نتیجہ
فلپائن کا خطہ جغرافیائی طور پر ‘پیسفک رنگ آف فائر’ (Pacific Ring of Fire) پر واقع ہونے کی وجہ سے زلزلوں اور آتش فشاں کے لیے انتہائی حساس مانا جاتا ہے۔ مینڈاناؤ میں آنے والا یہ 7.8 شدت کا زلزلہ ایک بار پھر حکومتوں اور شہریوں کے لیے یاد دہانی ہے کہ قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا کتنا ضروری ہے۔ اس وقت متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور عالمی برادری سے بھی تعاون کی اپیل کی جا رہی ہے۔