گلگت بلتستان الیکشن 2026:گلگت بلتستان الیکشن: انتخابی مہم جاری، عوام کی بڑی امید کیا ہے؟

گلگت بلتستان الیکشن 2026

حالیہ مہینوں میں پاکستان کا سیاسی پارہ جتنا گرم رہا ہے، اس کی تپش اب گلگت بلتستان کے برفانی پہاڑوں تک پہنچ چکی ہے۔ نومبر 2025 میں اسمبلی کی آئینی مدت ختم ہونے اور شدید سردی کے باعث جنوری سے مؤخر ہونے والے گلگت بلتستان اسمبلی الیکشن 2026 کا میدان اب مکمل طور پر سج چکا ہے۔ 24 براہِ راست نشستوں کے لیے لگ بھگ 400 امیدوار مدمقابل ہیں، لیکن سب سے زیادہ توجہ کا مرکز پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی انتخابی مہم اور اس کی سیاسی بقا کی جنگ ہے۔

ماضی کی سپر میجورٹی سے آزاد امیدواروں کے سہارے تک

اگر ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو 2020 کے انتخابات میں پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان میں دو تہائی اکثریت (Two-Thirds Supermajority) حاصل کر کے تاریخ رقم کی تھی اور خالد خورشید وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔ تاہم، وفاق میں حکومت کی تبدیلی اور مئی 2023 کے واقعات کے بعد گلگت بلتستان کی سیاست نے بھی تیزی سے پلٹا کھایا، پارٹی کے اندر فارورڈ بلاک بنا اور حاجی گلبر خان نئے وزیرِ اعلیٰ بنے۔

موجودہ الیکشن میں پی ٹی آئی کو ایک بالکل نئے منظر نامے کا سامنا ہے۔ 2024 کے قومی انتخابات کی طرح یہاں بھی پارٹی اپنے روایتی انتخابی نشان سے محروم ہے، جس کی وجہ سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار آزاد حیثیت میں میدان میں اترے ہیں۔

پی ٹی آئی کے الزامات اور ‘لیول پلیئنگ فیلڈ’ کا سوال

انتخابی مہم کے دوران پی ٹی آئی کی قیادت نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا الزام ہے کہ انہیں کھل کر انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور ان کے راستے میں مسلسل رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ:

  • ان کے کارکنان اور امیدواروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔

  • وفاق اور نگران حکومت کی جانب سے مخالف جماعتوں کو نوازا جا رہا ہے۔

  • پارٹی کو انتخابی نشان نہ دے کر ووٹرز کو الجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ان تمام تر چیلنجز کے باوجود پی ٹی آئی کے چیئرمین اور مرکزی قیادت نے شگر اور بلتستان کے دیگر اضلاع کا طوفانی دورہ کر کے عوامی مہم کو زندہ رکھا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پارٹی دباؤ کے باوجود ہتھیار ڈالنے کو تیار نہیں ہے۔

تگڑا مقابلہ: ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا چیلنج

روایتی طور پر گلگت بلتستان کی تاریخ رہی ہے کہ جو پارٹی اسلام آباد (وفاق) میں حکومت کرتی ہے، وہی جی بی میں بھی حکومت بناتی ہے۔ اس بار وفاق میں برسرِاقتدار پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) دونوں ہی گلگت بلتستان میں حکومت بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔

خاص طور پر پیپلز پارٹی نے اس بار غیر معمولی متحرک مہم چلائی ہے اور کئی سیاسی پنڈتوں کے مطابق وہ اس ریس میں کافی آگے دکھائی دے رہی ہے۔ ایسے میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کے لیے ن لیگ کے حکومتی اثر و رسوخ اور پی پی پی کے مضبوط تنظیمی نیٹ ورک کو توڑنا ایک کڑا امتحان ہے۔

گلگت بلتستان کے اصل عوامی مسائل

سیاسی جوڑ توڑ سے ہٹ کر، گلگت بلتستان کے عوام کے مطالبات اور مسائل بالکل واضح ہیں۔ یہاں کا ووٹر اب صرف نعروں پر نہیں بلکہ درج ذیل بنیادی حقوق پر ووٹ دے رہا ہے:

  1. آئینی حیثیت کا مسئلہ: جی بی کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے یا عبوری آئینی حقوق دینے کا دیرینہ مطالبہ۔

  2. سبسڈی اور گندم کا بحران: گزشتہ سالوں میں گندم کی قیمتوں اور سبسڈی پر ہونے والے شدید احتجاجی مظاہرے۔

  3. سیاحت اور انفراسٹرکچر: سی پیک (CPEC) کے روٹ پر ہونے کے باوجود مقامی انفراسٹرکچر اور بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ۔

نتیجہ: کیا پی ٹی آئی سرپرائز دے پائے گی؟

گلگت بلتستان الیکشن 2026 پی ٹی آئی کے لیے صرف اقتدار کا کھیل نہیں، بلکہ اس بات کا فیصلہ کن ٹیسٹ ہے کہ کیا عمران خان کا بیانیہ آج بھی جی بی کے پہاڑوں میں گونجتا ہے یا نہیں۔ اگر پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار تمام تر پابندیوں اور مشکلات کے باوجود بھاری تعداد میں نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو یہ پاکستانی سیاست میں ایک بار پھر بڑا سرپرائز ہوگا اور وفاقی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔

Related Posts