میئر سکھر صوبائی کارڈ نہ کھیلیں، سندھ میں ابھی الیکشن کرا دیں مسلم لیگ ن اکثریت سے کامیاب ہوگی، اسد عثمانی
پاکستان کی سیاست میں صوبہ سندھ اور بالخصوص اس کے دارالحکومت کراچی کا انفراسٹرکچر ہمیشہ سے ہی بحث کا مرکز رہا ہے۔ حال ہی میں مسلم لیگ (ن) کے ترجمان اسد عثمانی کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ بیان نے صوبائی سیاست میں ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ ن لیگ کے ترجمان نے سندھ کی موجودہ حالتِ زار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ “سندھ اور کراچی کے عوام اس جدید دور میں بھی پتھر کے دور جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔”
اس بیان نے پی پی پی کی صوبائی حکومت کی کارکردگی اور مڈل کلاس و غریب طبقے کو ملنے والی بنیادی سہولیات پر کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
کراچی اور سندھ میں بنیادی سہولیات کا فقدان
مسلم لیگ (ن) کے ترجمان اسد عثمانی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کا سب سے بڑا معاشی حب اور ریونیو دینے والا شہر کراچی اس وقت بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہو چکا ہے۔
ان کے بیان کے اہم ترین نکات درج ذیل ہیں:
-
پانی کا شدید بحران: کراچی کے سب سے بڑے اور پوش علاقوں کے لائنوں میں بھی پانی نہیں آ رہا۔ عوام بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور ٹینکر مافیا راج کر رہی ہے۔
-
کچرے کے ڈھیر اور تعفن: شہر قائد کی سڑکیں اور گلیاں کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے بیماریاں پھیل رہی ہیں اور شہریوں کا جینا محال ہو گیا ہے۔
-
بجلی کی لوڈ شیڈنگ: شدید گرمی کے اس موسم میں کراچی کے بیشتر علاقوں میں گھنٹوں بجلی غائب رہتی ہے، جس نے عوام کی زندگی کو مزید اجیرن بنا دیا ہے۔
“ایک طرف سندھ حکومت صوبے میں ترقی کے بڑے بڑے دعوے کرتی ہے، تو دوسری طرف زمینی حقائق یہ ہیں کہ عوام کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں۔ یہ ترقی نہیں بلکہ عوام کو جان بوجھ کر پسماندگی کی دلدل میں دھکیلنا ہے۔” — اسد عثمانی (ترجمان ن لیگ)
“سندھ کارڈ” کھیلنے کی سیاست اب نہیں چلے گی
ن لیگ کے رہنما نے پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ جب بھی صوبائی حکومت سے کارکردگی کا سوال پوچھا جاتا ہے، تو وہ جواب دینے کے بجائے “سندھ کارڈ” کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب سندھ کے عوام بیدار ہو چکے ہیں اور وہ اس قسم کی روایتی سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی پی پی پی کی کارکردگی کا اصل چہرہ دیکھنا چاہتا ہے تو وہ سندھ کے دیہی علاقوں اور کراچی کی کچی آبادیوں کا دورہ کرے، جہاں اسکول، ہسپتال اور سڑکیں تباہ حالی کا شکار ہیں اور لوگ بنیادی صحت کی سہولیات کے لیے بھی ترس رہے ہیں۔
سیاسی منظر نامے پر اس کے اثرات اور عوامی ردعمل
بلدیاتی اور عام انتخابات کے تناظر میں ن لیگ کا یہ جارحانہ رخ ظاہر کرتا ہے کہ وہ سندھ بالخصوص کراچی میں اپنا سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ دوسری جانب، کراچی کے عام شہریوں کا بھی یہی ماننا ہے کہ شہر کی حالتِ زار واقعی دگرگوں ہو چکی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا فقدان، ٹوٹی ہوئی سڑکیں اور اسٹریٹ کرائمز میں مسلسل اضافہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ شہر کو اس کا جائز حق نہیں مل رہا۔
ماہرینِ سیاسیات کے مطابق، مسلم لیگ (ن) کی جانب سے سندھ حکومت پر یہ تیکھے حملے آنے والے دنوں میں صوبے کی سیاست کو مزید گرمائیں گے اور پیپلز پارٹی کو دفاعی پوزیشن پر آنے پر مجبور کریں گے۔
نتیجہ
کراچی اور سندھ کے مسائل کا حل محض سیاسی بیان بازی یا ایک دوسرے پر الزام تراشی میں نہیں ہے۔ جب تک صوبائی اور وفاقی سطح پر خلوصِ نیت کے ساتھ کراچی کے انفراسٹرکچر، پانی کے منصوبوں (جیسے کے فور) اور بجلی کے نظام کو ٹھیک نہیں کیا جائے گا، تب تک ملک کا یہ معاشی انجن اسی طرح ہچکولے کھاتا رہے گا۔ عوام اب کھوکھلے دعووں کے بجائے عملی اقدامات کے منتظر ہیں۔
-
کراچی میں بجلی اور پانی کے بحران کی روزانہ کی اپڈیٹس اور دیگر مقامی خبروں کے لیے آپ ہمارا Azeemulshan TV وزٹ کر سکتے ہیں۔