جتوئی میں پھٹہ رکشوں کا راج، بڑھتے حادثات اور شور کی آلودگی پر شہری پریشان

جتوئی میں غیر قانونی پھٹہ رکشوں کی بھرمار

جتوئی میں پھٹہ رکشوں کا راج، حکومتی رٹ کہاں ہے؟
جتوئی نمائندہ ( بیور چیف تحصیل جتوائی حافظ محمد فاروق احمد خان سعیدی القادری سٹھاری ) جتوئی ضلع مظفرگڑھ۔ں بڑھتے حادثات، شور کی آلودگی اور انتظامی خاموشی
حکومت پنجاب کی جانب سے غیر قانونی “پھٹہ رکشوں” کے خلاف سخت کارروائی کے واضح احکامات جاری کیے جا چکے ہیں۔ کم عمر اور بغیر ڈرائیونگ لائسنس افراد کو گاڑی چلانے سے روکنے کے لیے بھی قوانین موجود ہیں، مگر ضلع مظفرگڑھ بالخصوص تحصیل جتوئی میں صورتحال تشویشناک حد تک مختلف نظر آتی ہے۔ غیر قانونی پھٹہ رکشے نہ صرف سڑکوں پر دندناتے پھر رہے ہیں بلکہ کم عمر، غیر تربیت یافتہ اور بعض اوقات غیر ذمہ دار ڈرائیور عوام کی جان و مال کو مسلسل خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
روزانہ کی بنیاد پر حادثات، ٹریفک کی بے ترتیبی، شہریوں کی مشکلات اور حکومتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کہیں نہ کہیں قانون کے نفاذ میں سنگین خامیاں موجود ہیں۔

یہ پڑھیں پنجاب نے 18 ویں ترمیم کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا: بلاول بھٹو زرداری کا گلگت میں بڑا دعویٰ

کم عمر ڈرائیور، بڑھتے حادثات
جتوئی شہر اور نواحی علاقوں میں متعدد پھٹہ رکشے ایسے نوجوان اور کم عمر لڑکے چلا رہے ہیں جن کے پاس نہ ڈرائیونگ لائسنس ہوتا ہے اور نہ ہی ٹریفک قوانین کا مناسب علم۔ یہ ڈرائیور تیز رفتاری، غلط اوور ٹیکنگ اور غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کے باعث آئے روز حادثات کا سبب بنتے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بازاروں، سکولوں اور گنجان آبادی والے علاقوں میں ان رکشوں کی بے ہنگم آمدورفت نے خوف و ہراس کی کیفیت پیدا کر رکھی ہے۔ کئی خاندان حادثات میں اپنے پیاروں کو کھو چکے ہیں جبکہ متعدد افراد مستقل معذوری کا شکار ہوئے ہیں۔
لاؤڈ سپیکرز کا بے جا استعمال، عوام پریشان
پھٹہ رکشوں کا ایک اور سنگین مسئلہ ان پر نصب طاقتور لاؤڈ سپیکرز ہیں جن کے ذریعے سبزی، فروٹ اور دیگر اشیاء فروخت کرنے والے انتہائی بلند آواز میں تشہیر کرتے ہیں۔
یہ شور صرف ایک معمولی پریشانی نہیں بلکہ ایک سماجی مسئلہ بن چکا ہے۔
تعلیمی ادارے متاثر
سکولوں اور کالجوں کے اوقات میں جب اساتذہ تدریسی عمل میں مصروف ہوتے ہیں تو بلند آواز اعلانات طلبہ کی توجہ منتشر کر دیتے ہیں۔ کئی اساتذہ اور والدین شکایت کرتے ہیں کہ شور شرابے کی وجہ سے بچوں کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔

یہ پڑھیں وزیر داخلہ محسن نقوی کی تہران میں ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے ملاقات

ہسپتالوں میں مریض اذیت کا شکار
ہسپتالوں اور کلینکس کے اطراف بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آتی ہے۔ بیمار، بزرگ اور دل کے مریض شور کی وجہ سے شدید ذہنی اذیت محسوس کرتے ہیں۔ آرام اور سکون کے متقاضی مریضوں کے لیے یہ بلند آواز اعلانات کسی عذاب سے کم نہیں۔
گھریلو زندگی بھی متاثر
گھروں میں بزرگ افراد، خواتین، طلبہ اور چھوٹے بچے مسلسل شور کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ شہری حلقوں کے مطابق جتوئی میں شور کی آلودگی ایک مستقل مسئلہ بن چکی ہے جس پر قابو پانے کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی نظر نہیں آتی۔
آخر مسئلہ کیا ہے؟
یہ سوال ہر شہری کی زبان پر ہے کہ جب قوانین موجود ہیں، حکومتی احکامات جاری ہو چکے ہیں اور متعلقہ ادارے بھی فعال ہیں تو پھر اس مسئلے کا حل کیوں نہیں نکل رہا؟
1۔ قانون پر عملدرآمد میں کمزوری
بظاہر سب سے بڑی وجہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونا ہے۔ اگر روزانہ کی بنیاد پر چیکنگ اور کارروائی کی جائے تو غیر قانونی رکشوں کی تعداد میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
2۔ ادارہ جاتی غفلت
شہریوں کا مؤقف ہے کہ بعض اوقات متعلقہ ادارے اپنی بنیادی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتے جس کی وجہ سے خلاف ورزیاں معمول بن جاتی ہیں۔
3۔ سیاسی اور سماجی اثرورسوخ
بعض حلقوں کا خیال ہے کہ بعض رکشہ مالکان یا ڈرائیور بااثر افراد کی سرپرستی کی وجہ سے قانون کی گرفت سے بچ جاتے ہیں، جس سے دیگر افراد کو بھی خلاف ورزی کا حوصلہ ملتا ہے۔
4۔ ممکنہ کرپشن کے خدشات
عوامی سطح پر یہ تاثر بھی موجود ہے کہ بعض مقامات پر غیر قانونی گاڑیوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے کے پیچھے مالی مفادات یا بدعنوانی کارفرما ہو سکتی ہے۔ اگرچہ اس قسم کے الزامات ثابت کرنے کے لیے شفاف تحقیقات ضروری ہیں، تاہم ایسے خدشات خود اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔
5۔ عوامی شعور کی کمی
بعض والدین خود کم عمر بچوں کو رکشے چلانے کی اجازت دیتے ہیں جبکہ مسافر بھی غیر قانونی گاڑیوں میں سفر کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ اس لیے مسئلے کے حل میں عوامی تعاون بھی ناگزیر ہے۔
انتظامیہ اور پولیس کے لیے لمحۂ فکریہ
ضلع مظفرگڑھ کی انتظامیہ، پولیس، ٹریفک پولیس اور خصوصاً تحصیل جتوئی کے متعلقہ اداروں کے لیے یہ صورتحال ایک بڑا چیلنج ہے۔ اگر حکومتی احکامات کے باوجود غیر قانونی رکشے، کم عمر ڈرائیور اور شور کی آلودگی بدستور برقرار رہتی ہے تو اس سے ریاستی رٹ کمزور ہونے کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔
شہریوں کے مطالبات
شہری، سماجی تنظیمیں، اساتذہ، والدین اور تاجر برادری مطالبہ کرتی ہے کہ:
غیر قانونی پھٹہ رکشوں کے خلاف فوری اور بلاامتیاز آپریشن کیا جائے۔
کم عمر اور بغیر لائسنس ڈرائیوروں کو سڑکوں سے ہٹایا جائے۔
لاؤڈ سپیکرز کے بے جا استعمال پر سخت پابندی عائد کی جائے۔
سکولوں، کالجوں اور ہسپتالوں کے اطراف خصوصی مانیٹرنگ کی جائے۔
شور کی آلودگی کے خاتمے کے لیے ضابطہ اخلاق نافذ کیا جائے۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
نتیجہ
جتوئی میں پھٹہ رکشوں، کم عمر ڈرائیوروں اور لاؤڈ سپیکرز کے بے ہنگم استعمال کا مسئلہ صرف ٹریفک کا نہیں بلکہ عوامی تحفظ، تعلیم، صحت اور شہری سکون کا مسئلہ بن چکا ہے۔ اگر متعلقہ ادارے مؤثر اقدامات نہ کریں تو حادثات، شور کی آلودگی اور عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے اور حکومتی احکامات کو محض کاغذی کارروائی کے بجائے عملی شکل دی جائے تاکہ شہری محفوظ، پُرسکون اور باوقار زندگی گزار سکیں۔

Related Posts